نئی دہلی،28/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ چنمیانند کے خلاف طالبہ کے جسمانی استحصال کے الزامات کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔کچھ وکلاء نے سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والی طالبہ تین دن سے غائب ہے۔لہٰذا سپریم کورٹ اس معاملے میں دخل دے۔اس پر عدالت نے کہا کہ آپ عرضی داخل کریں، اس کے بعد کورٹ دیکھے گا۔غور طلب ہے کہ سوشل میڈیا پر استحصال کے الزام سے متعلق ویڈیو پوسٹ کرنے والی قانون کی تعلیم حاصل کر رہی 23 سال کی طالبہ ہفتہ سے غائب ہے۔اسے لے کر بی جے پی کے سابق ایم پی سوامی چنمیانند کے خلاف اغوا اور مجرمانہ دھمکی کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر لڑکی کا جو ویڈیو وائرل ہو رہا ہے وہ پہلے وزیر داخلہ سوامی چنمیانند کے لاء کالج کی ہی طالبہ کا ہے۔ویڈیو میں وہ رو رو کر الزام لگا رہی ہے کہ سنت سماج کے ایک بڑے لیڈر نے کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کی ہے اور اب اس کا قتل کرنا چاہتے ہیں۔اس کے بعد سے لڑکی غائب ہے۔لڑکی کے والد نے پولیس کو دی تحریر میں چنمیانند پر جسمانی استحصال کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ سابق بی جے پی رہنما سوامی چنمیانند کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الزام بے بنیادہیں اور یہ ان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔وائرل ویڈیو میں لڑکی نے الزام لگایاکہ سنت سماج کے ایک بہت بڑا لیڈر جو کہ کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا ہے اور مجھے بھی جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔میری مودی جی اور یوگی جی سے درخواست ہے کہ وہ میری مدد کریں۔اس نے میرے خاندان تک کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ میرے پاس اس کے خلاف سارے ثبوت ہیں۔آپ لوگوں سے درخواست ہے مجھے انصاف دلایئے۔ لڑکی کے والد کہتے ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ چنمیانند ان لوگوں کو مروا سکتے ہیں۔وہ اس طرح کے انسان ہیں۔کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ کرواسکتے ہیں بچوں کے ساتھ، ہمارے ساتھ خطرہ بنا ہی ہوا ہے پورے خاندان کے اوپر۔بتا دیں کہ سوامی چنمیانند این ڈی اے حکومت میں وزیر داخلہ رہ چکے ہیں اور رام مندر تحریک کے بڑے لیڈر ہیں۔شاہ جہاں پور میں ان کا آشرم بھی ہے اور وہ یہاں ایک لاء کالج بھی چلاتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ترجمان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔